روزنامہ صدائے چنار کوٹلی مظفر آباد
Daily Sada-E-Chanar (روزنامہ صدائے چنار)

- Advertisement -

آل پارٹیز پیپلز رائٹس فورم کے مطالبات تسلیم ہونے تک جدوجہد جاری رکھیں گے ]جموں کشمیر نیپ اولڈہم

0 17

 

بریڈفورڈ(اسد لطیف ڈار سے )جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)برطانیہ اولڈھم یونٹ نے آل پارٹیز پیپلز رائٹس فورم کے جملہ مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے فورم کے پیش کردہ مطالبات تسلیم ہونے تک سیاسی جماعتوں کے شانہ بشانہ اپنے حقوق کی جنگ ہر صورت لڑیں گے مطالبات میں آزادکشمیر کو لوڈشیڈنگ سے مستثنٰی قرار دینا،ججز،پارلیمنٹیرینز،لینٹ افسران کی مراعات کاخاتمہ،اسیران کی رہائی،آٹا پر سبسڈی کی بحالی،پندرہویں ترمیم،ٹورازم اتھارٹی پر تحفظات کا خاتمہ شامل ہیں۔ان خیالات کا اظہار نیپ اولڈھم یونٹ کے صدر حاجی نثار احمد،جنرل سیکرٹری سروش خان،فہمائش،محمد سیف،محمد آمین ،حفیظ حسین،محمد ذاکر،محمد تنویر نے اپنے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ فورم کی احتجاجی کال پر انتظامیہ سے مذاکرات ہوئے اور ایک ہفتہ کی مہلت مانگی گئی جس اتفاق رائے ہوگیا اور جب حکومتی وزراءاور محکمہ برقیات کے حکام پر مشتمل ٹیم سے مذاکرات کا عمل شروع کیا گیا تو مقامی انتظامیہ نے گرفتاریاں کرکے ماحول کو کشیدہ کرکے ڈیڈ لاک پیدا کیا جبکہ فورم نے مذاکراتی ٹیم کے کورٹ میں بال پھینک دی تھی،لیکن ایک سازش کے تحت اس عمل کو سبوتاژ کیا گیا اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے،ڈیڈ لاک کے فورم نے اپنی کال کے مطابق جمعرات کو پرامن ریلی نکالی اور احاطہ کچہری میں دھرنا دیا اس دوران کوئی سڑک متاثر ہوئی نہ کسی کو کوئی دشواری ہوئی،اب یہ دھرنا غیر معینہ مدت کے لئے ہے،اور چارٹر آف ڈیمانڈ کے مطابق مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا،اس دوران حکومت نے اگر اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو احتجاج کا دائرہ کا آزادکشمیر بھر پھیلایا جائے گا اس کے پیدا ہونے والے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور مقامی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ مراعات یافتہ طبقہ کی وجہ سے عام لوگ مشکلات کا شکار ہیں،ججز کو پندرہ پندرہ لاکھ روپے تنخواہیں دی جارہی ہیں جبکہ اسی اہلیت و قابلیت کے دیگر بیورو کریٹس کو معمولی تنخواہیں دی جاتی ہیں، پارلیمنٹرینز  بھی ناجائز مراعات لے رہے ہیں یہ امتیاز ی سلوک بھی تشویشناک ہے،ججز کی مراعات فوری ختم کی جائیں اور یہ رقوم عوامی فلاح پر خرچ کی جائیں،آزادکشمیر جیسی غریب ریاست ایسی عیاشیوں،شاہ خرچیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی،گلگت بلتستان کی طرح آزادکشمیر میں بھی آٹے پر سبسڈی بحال کی جائے،انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کو لیکر جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں انہیں حق دینے کی بجائے ان کے خلاف مقدمات قائم کرنا درست نہیں،اس سے افرا تفری پھیل رہی ہے،کھڈ، کھائی گلہ کا واقعہ افسوسناک ہے،جو لوگ جرائم میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے،پاک فوج کے خلاف نعرے بازی بھی قابل تشویش ہے لیکن یہ سب انتظامیہ کی نااہلی،غلط پالیسیوں کے باعث ہوا،اگر انتظامیہ درست طریقہ سے تمام معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتی تو ایسے واقعات پیش نہ آتے،اسی انتظامیہ کی وجہ سے مذاکراتی عمل میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا،انتظامیہ کسی آلہ کار بنی ہوئی ہے،پس پردہ سازشوں نے سارے عمل کو متاثر کیا۔

 

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.